راج ٹھاکرے کی مسجدوں سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی دھمکی پر ممبئی پولیس الرٹ،
3 مئی کے لئے کی یہ تیاریاں
ممبئی : ان دنوں ملک میں لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کے انتباہ کے بعد مہاراشٹر نو نرمان سینا نے ریاست میں مہا آرتی کا اعلان کیا ہے۔ جس کی وجہ سے پوری ریاست میں سیکیوریٹی نظام کے حوالے سے الرٹ کا ماحول ہے۔ 3 مئی کے لئے ممبئی پولیس نے تیاریاں کر لی ہیں۔ ممبئی پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ 5 منٹ میں کسی بھی فساد کی جگہ پر پہنچ جائے گی۔ جس کی وجہ سے شہر کے حساس اور غیر محفوظ علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اس کو مدنظر رکھتے ہوئے شہر کے 94 تھانوں میں 1504 پوائنٹس بنائے گئے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ ہر تھانے میں 4 بیٹ چوکی ہوتی ہیں۔ ہر بیٹ میں 4 پوائنٹس ہوتے ہیں۔ پہلا پوائنٹ A، دوسرا B، تیسرا C اور چوتھا D پوائنٹ ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ہر تھانے میں کل 16 پوائنٹس ہوتے ہیں۔ ان تمام 16 پوائنٹس پر 24 گھنٹے گشت کیا جاتا ہے۔ اس انتظام کے مطابق ممبئی پولیس نے فسادات سے نمٹنے کے لیے تیاریاں کر لی ہیں۔
اس عمل میں ایس آر پی ایف کی 57 پلاٹون تیار کی گئی ہیں، ایک پلاٹون میں 25 پلس 1 یعنی 26 پولیس اہلکار ہوں گے۔ عام طور پر کسی بھی واقعے سے نمٹنے کے لیے ممبئی پولیس کے ساتھ 33 پلاٹون ہر وقت موجود رہتی ہیں۔ ساتھ ہی، فسادات پر قابو پانے کی 6 پلاٹون تیار رکھی گئی ہیں۔ آر سی پی کی ہر پلاٹون میں 14 لوگ تھے، اس میں ایک ڈیلٹا ٹیم بنائی گئی ہے اور ہر تھانے سے دو کانسٹیبل تعینات کیے گئے ہیں۔
مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے لاؤڈ اسپیکر کے بارے میں کہا ہے کہ اگر 3 مئی تک مساجد پر نصب لاؤڈ اسپیکر ہٹائے نہیں گئے تو جیسے کو تیسا جواب دیا جائے گا۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے لیے یہ دھمکی گلے کا پھندہ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ دراصل، ممبئی کی مساجد میں غیر قانونی طور پر نصب لاؤڈ اسپیکرز کو ہٹانے کا مطالبہ سب سے پہلے بی جے پی لیڈروں نے اٹھایا تھا، لیکن گزشتہ ہفتے بھر سے راج ٹھاکرے نے اسے مکمل طور پر ہتھیالیا ہے۔
مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کو ہٹانے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے راج ٹھاکرے نے کہا ہے کہ نماز کے لیے سڑکوں اور فٹ پاٹھ کی کیا ضرورت ہے؟ گھر پر پڑھیں۔ عبادت آپ کی ہے، آپ ہمیں کیوں سنارہے ہیں؟ اگر ان کو ہماری بات سمجھ میں نہیں آتی تو آپ کی مسجد کے سامنے ہنومان چالیسہ بجائی جائے گی۔ ہم ریاستی حکومت سے کہتے ہیں کہ ہم اس معاملے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آپ کو جو کرنا ہے کرو۔





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں