آج مالیگاؤں میں کسانوں کا تاریخی استقبال اور
احتجاجی اجلاس
ڈیولپمنٹ فرنٹ,مسلم راشٹریہ مورچہ, سنی جمعیت الاسلام سمیت سینکڑوں سماجی و ملی تنظمیں کسانوں کے ساتھ
مالیگاؤں( خیال اثر) کسان آندولن میں شریک ہونے کے لئے ضلع ناسک کے پانچ ہزار سے زائد کسانوں پر مشتمل ایک مورچہ دہلی تک جا کر وہاں آندولن کررہے کسانوں کو تقویت پہنچائے گا. ضلع ناسک سے نکلنے والا یہ مورچہ آج مالیگاؤں کی تمام شاہراؤں سے گزرتا ہوا دہلی کی جانب کوچ کر جائے گا. اس مورچے کی مالیگاؤں آمد پر شہر میں ایک احتجاجی اجلاس کا انعقاد بھی کیا گیا ہے. اسی طرح ان احتجاجی کسانوں کے استقبال کرنے کے لئے شہر کی سبھی سماجی, ملی اور سیاسی جماعتوں نے جنگی پیمانے پر تیاری کر رکھی ہے. اس تعلق سے راشٹریہ مسلم مورچہ کے شہری صدر سیٹھ اکبر اشرفی نے کہا کہ آج کا یہ کسانوں پر مشتمل احتجاجی مورچہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے دہلی تک جائے گا. اس سنگین رخ اختیار کردہ حالات میں ہم کسانوں کے ساتھ ہیں اور ان کے مطالبات کی یکسوئی کے لئے ارباب حکومت کو متوجہ کرتے ہیں کیونکہ ہندوستانی فوجی اگر سرحدوں پر لڑتے ہوئے دیش کی حفاظت کرتے ہیں تو یہ کسان ہر شہری کے لئے وافر مقدار میں اجناس کی پیداوار کرکے ہمیں بھوک سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں. سنی جمیعت الاسلام کے صدر اور سجادہ نشین صوفی نور العین صابری نے کہا کہ کسان حق بجانب ہیں کہ ان کے حقوق کو زبردستی پامال نہ کیا جائے. ان کے خلاف بنائے گئے زرعی قوانین کو فورأ سے پیشتر منسوخ کیا جائے ورنہ آنے والے دنوں میں کسان اپنے کھیتوں میں بھوک کی کاشت کاری کرتے ہوئے افلاس کی فصل کاٹنے پر مجبور ہو جائیں گے جس سے کورونا سے خطرناک وباء قحط سالی کا عذاب ہندوستان پر نازل ہو جائے گا. مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کے عمران راشد نے کہا کہ مودی حکومت نے پورے بھارت کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اقلیت خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہے۔ حال ہی میں کسانوں کے تعلق سے بنائے گئے تین نئے قانون سے کسان کافی ناراض ہیں۔ اس ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کسان سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ دہلی کے اطراف میں سخت سردی کے ایام ہیں لیکن کسانوں کا جوش و خروش ہے کہ بھوکے پیاسے کسان سردی میں بھی گرمی کا ماحول بنائے ہوئے ہیں. انھیں کوئی بھی موسم اپنے قدم پیچھے ہٹانے کے لئے مجبوری کا باعث نہیں بن رہا ہے. کافی جوش و خروش کے ساتھ آندولن جاری ہے۔ کسانوں کی مانگ ہے کہ یہ قانون انہیں منظور نہیں اسے رد کیا جائے۔ لیکن مودی حکومت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ وہیں دوسری جانب مہاراشٹر کے کسان بھی اب کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ 22 دسمبر کو ناسک میں مہاراشٹر کے کسان جمع ہوں گے اور وہاں سے ایک بڑی ریلی دہلی کسان آندولن میں شریک ہوگی۔ کسانوں کی یہ ریلی مالیگاؤں سے ہوکر گذرے گی۔ اس موقع پر مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کے نوجوانوں کی جانب سے کسان ریلی کا استقبال کیا جائے گا۔ ساتھ ہی کسانوں کے حوصلوں کو بڑھانے کے لئے ایم ڈی ایف کے نوجوان کسان ریلی میں شریک بھی ہوں گے۔ عیاں رہے کہ مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کی جانب سے نیا فاران ہاسپٹل کے سامنے کسانوں کا استقبال کیا جائے گا.بتایا جاتا ہے کہ کسانوں کے اس عظیم احتجاج کے پیش نظر شہر کے ہر مکتب فکر کے افراد نے نہ صرف ان کی تائید و حمایت کا اعلان کیا ہے بلکہ یکجٹ ہو کر ان کے تاریخی استقبال کے لئے نہ صرف اپنی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی ہیں بلکہ ان کے ساتھ کچھ دور تک ساتھ چلنے کا عندیہ بھی ظاہر کیا ہے. شہر کا جوش و خروش دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج شہر کا کوچہ کوچہ پولیس چھاونی میں تبدیل ہو جائے گا اور ان کسانوں پر پھول نچھاور کرنے کے پھول دکانوں پر پھول کمیاب ہو جائیں گے.





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں