src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> اتر پردیش بلڈوز کاروائی معاملہ یو پی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ سے اتفاق نہیں، جمعیۃ علماء ہند جوابی حلف نامہ داخل کریگی،گلزار اعظمی - مہاراشٹر نامہ

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

جمعہ، 24 جون، 2022

اتر پردیش بلڈوز کاروائی معاملہ یو پی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ سے اتفاق نہیں، جمعیۃ علماء ہند جوابی حلف نامہ داخل کریگی،گلزار اعظمی

 




اتر پردیش بلڈوز کاروائی معاملہ :
   

یوپی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ سے اتفاق نہیں، جمعیۃ علماء ہند جوابی حلف نامہ داخل کریگی، گلزار اعظمی



نئی دہلی 24؍ جون : یوپی کے مختلف اضلاع میں مسلمانوں کی املاک کی بلڈوز کے ذریعہ غیر قانونی انہدامی کاروائی کے خلاف صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی جانب سے داخل پٹیشن پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے عدالت سے یو پی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ کا جواب داخل کرنے کے لیئے وقت طلب کیا جسے عدالت نے منظور کرلیا۔


سپریم کورٹ کی تعطیلاتی بینچ کے جسٹس سی ٹی روی کمار اور جسٹس سدھانشو دھولیہ کو ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے بتایا کہ یو پی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ پر انہیں اعتراض ہے لہذا وہ جوابی حلف نامہ داخل کرنا چاہتے ہیں جس پر سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے بھی اعتراض نہیں کیا ، سالیسٹر جنر ل کی جانب سے اعتراض نہیں کیئے جانے کے بعد عدالت نے سماعت اگلے (29 جون)  بدھ تک ملتوی کردی اور جمعیۃ علماء ہند کو اجازت دی کہ وہ اس درمیان جوابی حلف نامہ داخل کرے۔

آج کی عدالتی کاروائی پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ یوپی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ سے اتفاق نہیں ، حلف نامہ میں وزیراعلی یوپی یوگی ادتیہ ناتھ، اعلی پولس افسران و دیگر کی جانب سے عوامی بیانات میں احتجاج کرنے والوں کے متعلق کہا گیا تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جو دوسروں کے لئے مثال بنے گا، اس پر ایک لفظ تک نہیں کہا گیا ہے اور نہ ہی سہارنپور میں مسلمانوں کی املاک پر چلے بلڈوزر کا ذکر ہے۔


اسی طرح الہ آباد میں محمد جاوید کا جو مکان منہدم کیا گیا اس تعلق سے بھی حقیقت بیانی نہیں کی گئی ہے،طمکان جب جاوید کی اہلیہ کے نام پر تھا تو انہدامی کاروائی سے ایک رات پہلے مکان پر نوٹس چسپاں کرکے جانے کا کیا مطلب؟ یوپی کے مختلف شہروں میں انہدامی کاروائی انجام دی گئی جبکہ حلف نامہ میں صرف تین جگہوں کا ہی ذکر کیا گیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یو پی حکومت عدالت سے حقائق کو چھپانا چاہتی ہے ۔


گلزار اعظمی نے کہا کہ ہمارے وکلاء یوپی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ کا جواب دیں گے اور عدالت کے روبرو ان سب حقائق کو پیش کیا جائے گا جسے جان بوجھ کر یوپی حکومت نے اپنے حلف نامہ میں شامل نہیں کیا ہے۔

 واضح رہے کہ اس سے قبل کی سماعت پر جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وکرم ناتھ کے روبرو جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر وکلاء نتیا راما کرشنن اور سی یو سنگھ پیش ہوئے  تھے جنہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ کاروائی پر عدالت نے غیر قانونی بلڈوزر انہدامی کاروائی پر نوٹس جاری کئے جانے کے بعد بھی یوپی میں غیر قانونی طریقے سے انہدامی کاروائی کی جارہی ہے جس پر روک لگانا ضروری ہے نیز ان افسران کے خلاف کاروائی کرنا بھی ضروری ہے جنہوں نے قانون کی دھجیاں اڑا کر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔ سینئر وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ایمرجنسی کے دوران بھی ایسی بربریت نہیں ہوئی تھی جیسی آج یوپی میں کی جارہی ہے۔

سینئر وکلاء کے علاوہ عدالتی کاروائی میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈوکٹ آن ریکارڈ کبیر دکشت، ایڈوکیٹ صارم نوید، ایڈوکیٹ نظام الدین پاشا، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ کامران جاوید،ایڈوکیٹ اے سیتارمن، ایڈوکیٹ راگھو تنکھا ویگر نے حصہ لیا۔

 صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر داخل پٹیشن میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی مدعی بنے ہیں۔

   فضل الرحمن قاسمی

       پریس سیکریٹری جمعیۃ علماء ہند

9891961164

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages