src='https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-2927126055114474'/> ایک سال کے دوران مالیگاؤں شہر کو صوفی ملت "صوفی غلام رسول قادری "کی کمی کا احساس پل پل ہوتا رہا, کاش...........!! ‏ - مہاراشٹر نامہ

 


Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

جمعرات، 11 مارچ، 2021

ایک سال کے دوران مالیگاؤں شہر کو صوفی ملت "صوفی غلام رسول قادری "کی کمی کا احساس پل پل ہوتا رہا, کاش...........!! ‏

ایک سال کے دوران مالیگاؤں شہر کو صوفی ملت "صوفی غلام رسول قادری "کی کمی کا احساس پل پل ہوتا رہا, کاش...........!! 


  تحریر : خیال اثر (8329155721)


مرحوم صوفی غلام رسول

دیکھتے دیکھتے ایک سال یعنی 365 تپتے ہوئے دن اور 365 کالی اندھیری پر ہول راتیں گزر گئیں. اسی طویل عرصہ میں کورونا نامی خطرناک بیماری نے ابنان آدم پر یلغار کی تھی. بے شمار افراد لقمہ تر ہو گئے. بے پناہ احتیاطی تدابیر کے باوجود درد مند دل رکھنے والے ایسے ایسے افراد کو اس کورونائی عفریت نے بے درردی سے نگل لیا کہ ان کا حلقہ احباب دم بخود رہ گیا. ایسے ہی افراد میں مالیگاؤں شہر کی ہمہ جہت و ہمہ صفت شخصیت جنت مکانی صوفی غلام رسول قادری, شطاری صابری علیہ رحمہ کا بھی شمار ہوتا ہے.صوفی ملت تنہا اپنے کاندھوں پر "سنی جمیعت الاسلام "اور "کل جماعتی تنظیم "کا بار گراں اٹھائے آہستہ آہستہ نہیں بلکہ تیز گامی سے مصروف سفر تھے. شہر کے ایک دور دراز علاقہ گلشن معصوم میں واقع معصوم علی شاہ کے مزار مبارک کے احاطہ میں بینا و نابیناؤں کا مدرسہ دارالعلوم اہل سنت فیض القران کی نہ صرف بنیاد گزاری کی بلکہ اسے کامیابی سے جاری و ساری بھی رکھا. اسی مقام پر ایک یتیم خانہ بھی انھوں نے قائم کیا جہاں شہر و بیرون شہر کے یتیم بچے دینی و عصری تعلیمات سے فیض یاب ہوتے ہیں. اسی مقام پر بنات حوا کے لئے سلائی, ایمبرائڈری ,حنا کاری کی کلاسوں کے علاوہ امور خانہ داری کے اسرار و رموز سے بھی کما حقہ واقفیت دی جاتی ہے. امت مسلمہ کو درپش مسائل کے حل کے لئے سنی دارالفتاء کا قیام بھی صوفی ملت کا مرہون منت ہے. صوفی ملت علیہ رحمہ کی شخصیت اتنی با رعب تھی کہ شہر میں آنے والا پولیس , سرکاری آفیسر ,وزراء پہلی ہی ملاقات میں بغلیں جھانکتے نظر آتے تھے. کورونائی یلغار کے دوران نافذ شدہ لاک ڈاؤں میں جب بے شمار ملازم پیشہ خانوادوں پر بھکمری کے سائے منڈلا رہے تھے تب صوفی ملت نے ایسے بے شمار خانوادوں کو اجناس و دیگر غذائی اشیاء  بغیر  کسی نام و نمود کے مہیا کی تھی. مالیگاؤں شہر جب بھی امن و عامہ کے مسائل سے نبرد آزما رہا صوفی ملت پا برہنہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شاہراؤں پر سفر کرتے نظر آئے. مضبوط و توانا گھٹا ہوا جسم کاندھوں پر بکھری لامبی زلفیں چہرے پر پر نور داڑھی کے ساتھ گھنی مونچھیں پیشانی پر سجدوں کا سرمئی نشان سر پر جناح کیپ بدن پر کرتا پاجامہ سادگی کا پیرہن لئے سدا ہی ان کی شخصیت کو نمایاں کرتا رہا تھا. تاریخ شاہد ہے کہ ہم مسلمانوں نے جہاں ہندوستان کو شہید اول ٹیپو سلطان رح کا شوق شہادت اور جذبہ حریت دیا ہے وہیں جنگ آزادی کی قیادت کی پاداش میں اپنے جوان شہزادوں کا کٹا ہوا سر بھی پیش کیا ہے. کبھی عبدالکلام بن کر دشمنان ہند سے حفاظت کے لئے بے شمار مزائل بھی عطا کئے ہیں. ہم مسلمانوں کی نمائندہ شخصیت آزاد ہندوستان کے اولین وزیر تعلیم, مفسر قران اور مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کا جوش خطابت بھی دیا ہے. آج ہندوستان میں ہم مسلمانوں کی جو کثیر تعداد موجود ہے وہ مولانا ہی کی مرہون منت ہے کیونکہ جب بٹوارے کے وقت اکھنڈ بھارت کے مسلمان ہجرت کرنے کی تیاری کررہے تھے تب مولانا آزاد نے جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں سے ہجرت پر آمادہ مسلمانوں کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ تم کہاں جارہے ہو؟. یہاں تمہارے اجداد کی قبریں ہیں. یہاں تمہاری مساجد مدارس موجود ہیں. تم انھیں کس کے  بھروسے چھوڑ کر جارہے ہو؟. مولانا کا انداز خطابت اتنا اثر دار تھا کہ ہزارہا افراد نے مہاجرت سے نہ صرف توبہ کرلی بلکہ اپنے اباء و اجداد کی قبروں اور ان کے ذریعے تعمیر شدہ مساجد و مدارس کی حفاظت کے لئے ہندوستان میں ہی رہنا منظور کرلیا تھا. مولانا عبدالکلام آزاد جیسا ہی انداز خطابت صوفی ملت کا ہم رکاب رہا ہے. مذہبی و ملی جلسہ ہو یا بساط سیاست ہو ایسے اجلاس میں جب صوفی ملت کا پر جوش انداز خطابت عود آتا تھا تو نئے انقلابوں کا اشاریہ بن جایا کرتا تھا. صوفی ملت کا انداز خطابت اتنا پر مغز اور سحر انگیز ہوتا تھا کہ "کان میں نہیں میدان بولنے" کا دعوی کرنے والے بھی شرمسار نظر آتے تھے. آج جب کہ 365 جلتے جھلساتے دن اور 365 کالی اندھیری راتیں دیکھتے ہی دیکھتے گزر گئیں اور ان کے اولین عرس کا موقع درپیش آیا تو کل جماعتی تنظیم, سنی جمیعت الاسلام, دارالعلوم فیض القران جیسے بے شمار دینی ادارے اپنی آنکھیں بچھائے چشم پر نم سے ان کی آمد کے منتظر ہیں کہ کاش....... کاش اور ایک بار وہ ہمارے درمیان آ جائیں,چند لمحوں کے لئے سہی....... لیکن ایک بار ہی سہی وہ ہماری نظروں کے سامنے پھر اسی طرح آ جائیں جیسے ہمیشہ آیا کرتے تھے.
برسوں پہلے کسی شاعر نے کہا تھا کہ 
یہ پھول کوئی مجھ کو وراثت میں ملے ہیں 
تم نے میرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا 
صوفی ملت کا بچپن ایک تنگ و تاریک مکان میں انتہائی کسمپرسی اور تنگدستی کے عالم میں گزرا تھا. موصوف راتوں کو پاور لوم پر مزدوری کیا کرتے تھے اور جب ساری رات لوہے سے ٹکرانے کے بعد اپنے مسکن لوٹتے تو انھیں آرام کے لئے کوئی گوشہ نصیب نہیں ہوتا تھا. مختلف مقامات پر وہ محو استراحت رہتے ہوئے اپنی تھکن اتارا کرتے تھے. ایام طفلی کے زمانے سے ہی انھیں مذہب اور خصوصاً مسلک اہلسنت سے شغف تھا اس لئے والدین نے مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم حنفیہ سنیہ میں مذہبی تعلیمات سے روشناسی کے لئے داخل کردیا تھا یہی وہ درسگاہ تھی جہاں سے صوفی ملت کندن بن کر نکلے. بجا طور پر دارالعلوم حنفیہ سنیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ صوفی ملت جیسے نو تراشیداہ ہیرے کو تراش خراش کر وہ تب و تاب عطا کی ہے مزید بر آں صابر پاک کلیر شریف سے نسبت نے انھیں مقبولت و محبویت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا  کہ یہی نسبت تھی جس کی روشن و منور کرنوں سے ایک نہیں بلکہ کئی نسلیں فیضاب ہوئیں ہیں. آج جبکہ صوفی ملت کی محرومی کا غم آنکھوں سے اشکوں کو رواں  رکھنے کا ذریعہ بنا ہوا ہے لیکن ان کے قائم کردہ دینی, ملی سماجی ادارے آج بھی زندہ و پائندہ ہیں. ان کے ذریعے پرورش پائے گئے تمام افراد آج بھی ان کی ہمہ جہت شخصیت کے گرویدہ بنے کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ 
ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس 
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages